/ Sep 15, 2026

NEWS

UK

لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کامعاملہ اٹھا دیا

VOA-News
3 Min Read
Screenshot

بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، لارڈ قربان حسین

برطانیہ بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے, وزارتِ خارجہ برطانیہ

لندن، 23 جولائی 2026: ہاؤس آف لارڈز میں ہونے والی بحث کے دوران لارڈ قربان حسین نے بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر (IIOJK) میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ رواں سال فروری میں شا ئع ہونی والی جینو سائیڈ واچ رپورٹ کی روشنی میں وہاں کی صورتحال کے بارے میں اپنا مؤقف واضح کرے۔

لارڈ قربان حسین نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ اور دوست کنٹرول لائن کے دونوں اطراف مقیم ہیں۔انہوں نے حکومت سے دریافت کیا کہ وہ جینو سائیڈ واچ کی اس رپورٹ کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں اور نسل کشی کے تسلیم شدہ دس مراحل میں سے آٹھ مراحل پہلے ہی طے ہو چکے ہیں۔

لارڈ قربان حسین نے سوال اٹھایا کہ برطانوی حکومت ان رپورٹس کو کس قدر سنجیدگی سے لیتی ہے؟ اور برطانو ی حکومت بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے؟

حکومت کی جانب سے جواب دیتے ہوئے وزارتِ خارجہ، دولتِ مشترکہ و ترقی (FCDO) کے پارلیمانی انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ، لارڈ کولنز آف ہائیبری نے انسانی حقوق کے حوالے سے برطانوی حکومت کے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ تشدد کے نتیجے میں ہونے والی جانی ہلاکتوں پر مسلسل اظہارِ افسوس کرتا ہے۔ برطانیہ بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کی جانب سے مبینہ بدسلوکی کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے اور ان تمام امور کو بھارت کے ساتھ مسلسل اٹھاتا رہتا ہے۔

لارڈ قربان حسین کے برطانوی حکومت سے سوالات بھارت کے غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی سنگین صورتحال پر برطانوی پارلیمان کے ارکان میں پائی جانے والی مسلسل تشویش کو ظاہر کرتے ہیں۔

Share This Article